Skip to main content

ایک تصویر ایک کہانی،27

آج مورخہ 1 فروری 2018 کو میں نے دیھ بند مراد کا وزٹ کیا،اس تصویر کے پیچھے آپ کو ویرانی میں ایک بوت بنگلہ نظر آرھا ہے،یہ ضلع لوکل بورڈ کراچی کا ریسٹ ھائوس ہے،یہ ریسٹ ھائوس سن 1930 کو مکمل ھوا تھا،جب سائیں جی۰ایم سید ضلع لوکل بورڈ کا صدر منتخب ہوئے ، تو اس دور میں جی۰ایم سید نے یہ ریسٹ ھاؤس بنوایا تھا،یاد رھے کہ جی۰ایم سید۔ 1928 سے 1933 تک ضلع لوکل بورڈ کراچی صدر رھے ہیں،کیونکہ اس وقت محال مانجھند،محال کوھستان اور کوٹڑی کراچی لوکل بورڈ میں شامل تھے۔سائین جی۰ایم سید کا گاؤں سن کراچی میں شامل تھا۔جب ریسٹ بنا تھا تو یہ پورا علائقہ سر سبز اور شاداب تھا،حب ندی اس کےپہلو سے گذر کر بہتی تھی،تصور کریں کیا عاشقانا منظر ھوگا،موجودہ اس ویران علاقے کا،فطرت کے پوجاریوں کے یہ اس جنت کا ٹکرا تھا۔یہ اس وقت کی بات ھے،جب حب ڈیم اور دریجی میں ڈیم بنے نہ تھے تو حب پورا سال بہتا تھا جس کے وجہ سے منگھو پیر سے گابو پٹ ،چھتارا اور میندیاری تک علائقہ آباد تھا اب سمندر میں میٹھا پانی نہیں گرتا تو سمندر کا پانی زیر زمین بڑھنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کارا ھوا تو علائقے ویران ھو گئے۔یہ قدرت کا نظام ھے،جب ھم فطرت سے کھلواڑ کرتے ھیں تو ویرانیاں ھمارے نصیب میں لکھی جاتی ھیں۔


۔1979 میں ماڈل ڈکٹیر ضیا نے پرانا بلدیاتی نظام ختم کیا تو ضلع لوکل بورڈ کراچی کو نیا نام ضلع کونسل کراچی دیا گیا۔تو یہ ریسٹ ھاؤس بھی ان کے انڈر چلی گئی،1998 تک یہ صحیح حالت میں تھی۔پھر سب نے اس خوبصورت ریسٹ ھاؤس سے منھ موڑ لیا،حب سوکھ گیا تو ویرانی نے یہاں ڈھیرے ڈالے۔اب اس کی کھڑکیاں اور دروازے بھی لوگ اکھاڑ کر لے گئے ،ضلع کونسل کا چوکیدار حیدر بخش نامی یہاں تعینات تھا،دو سال پہلے اس انتقال ھوگیا،یہ بھوت بنگلہ اب بنا چوکیدار کے ھے،اگر اس کی وارثی نہیں کی گئی تو ریتی اور مٹی نکالنے والی مافیا اس کا کریا کرم کر دے گی۔ضلع کونسل کےموجودہ قیادت اور افسران کو شاید ہی پتا ہو،یہ ان کی ملکیت ہے،یاد رھے کہ ۲۰۰۱ میں جب نیا بلدیاتی نظام نافذ ھوا تو یہ سٹی حکومت کے انڈر میں رھی جب دوبارہ ۱۹۷۹ کو نافذ کیا گیا تو ضلع کونسل کے حسن اسکوائر والے مین آفیس کے ساتھ ضلع کونسل کیے تمام پراپرٹی بشمول اس ریسٹ ھاؤس کے دوبارہ ضلع کونسل کو واپس ھو گئے ،یہ ریسٹ ھائوس دیھ بند مراد خان،تپو منگھو پیر کراچی ویسٹ میں واقع ھے۔یہ پوسٹ پڑھ ضلع کونسل کے نمائندوں اور افسران کو اس خیال آجائے اور ماضی کی طرع پھر آباد ھو جائے ۔میں نےاس کو ھریٹیج قرار دینے کی کلچر ڈیپارٹمنٹ کو سفارش بھی کی ھے،تاکہ اس کو قومی ورثہ قرار دیکر محفوظ کیا جائے:گل حسن کلمتی۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک تصویر ایک کہانی ،30

یہ تصویر جس میں قبر پر انڈیجینس رائٹس الائنس کراچی کا وفد جس میں سید خدا ڈنو شاھ، راقم،غلام رسول بلوچ ،حمزہ پنھور،حیدر شاہ،امان اللہ جوکھیو کے علاوہ اللہ بخش گبول،رشید گبول پھول چڑھا رھے ہیں اوراس قبر کو سلامی دے رھے ہیں،یہ قبر اس بھادر انسان کی ہے،جس شخص نے بحریا (بھڑیا) ٹاؤن کے بلڈوزروں کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی زمیں ،قبرستان اور گاؤں بچائے،آج وہ اس قبرستان میں ابدی نیند سو رھاہے۔اگر وہ یہ قبرستان اور گوٹھ نہ بچاتا تو نہ جانے کہاں دفن ہوتا کوئی بھی نہیں جانتا کہ فیض محمد بابلانی گبول کون ہے۔اپنے مزاحمتی کردار کے وجہ سے آج اس باغی کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بھادری کے وجہ سے پوری دنیا میں یاد کیا جا رھا ہے۔فیض محمد گبول المعروف فیضو گبول وہ پہلا شخص تھا جس نے مشہور قبضہ گروپ بحریا ٹاؤن کو اپنی آبائی زمین دینے سے انکار کیا ،جس کے پاداش میں اس ۸۵ سالا بوڑھے پر راؤ انوار اور اس کی ٹیم نے بے پناھ تشدد کیا،معزز آدمی کو ھت کڑیاں پہنا کر تھانو میں گھسیٹا گیا لیکن اس مجاھد نے مقابلا کیا،یہ اس وقت کی بات ھے جب وقت کے خداؤں کے سامنے کسی کو کھڑے ہونے کی ھمت نہ تھی،اچھے بھلے پیسے والے راج بھاگ وا...

ایک تصویر ایک کہانی۔33

ایک فنکار کا آخری سفر:تصویر میں ،میں ایک70 سالا خوبصورت شخص کو ایوارڈ دے رہا ھو،2016میں منعقد ہونے والا یہ اپنے نوعیت ایک منفرد پروگرام تھا ،جس کراچی سے تعلق رکھنے والے ھر زبان کے فلم،ٹی،وی،اسٹیج،اور تھیٹر کے مشہور فنکاروں،قلمکاروں اور گائیکوں نے شرکت کی تھی۔یہ پروگرام پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور رشید صابر آرٹس سرکل کے جانب سے مشہور فلم،ٹی وی،ریڈیو،اوراسٹیج کے ادکار،رائٹر،ھدایت کار اور صداکار رشید صابر کے یاد میں منعقد ہوا تھا۔جس میں رشید صابر کے لکھے ہوئے ریڈیو ڈراموں پر کتاب کی تقریب رونمائی اور فنکاروں کو ایوارڈ تقسیم کیئے گئے تھے،پروگرام کے روح رواں رشید صابر کے ہونہار بیٹے رضوان صابر تھے،جو اس تصویر میں بھی نظر آرہے ہیں۔پروگرام میں بہت سے آرٹسٹوں اور قلم کاروں کو میرے ھاتھ سے ایوارڈ دیئے گئے ،جن میں قاضی واجد،وسیم راجہ،نصیر مرزا اور دوسرے شامل تھے جو میرے لیئے اعزاز تھا،اس تصویر میں میں جس شخص کو ایوارڈ دے رھا ہوں  یہ ماضی کے سندھی اور اردو فلموں کے خوبصورت ادکار وسیم  ہیں،وحید مراد کے ہمشکل ہونے کے وجہ سے وسیم  سندھی فلموں کے وحید مراد مشہور ہوئے،سندھی...

ایک تصویر ایک کہانی،29

دوستو آج کہانی ھیرانند لیپر(جذامی/کوڑ)اسپتال منگھو پیر کی۰سوچتا ھوں کیا لوگ تھے،جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانی خدمت میں گذار دی،ایسی خدمت جس میں ھر مذھب اور فرقے کے لوگوں کی بلا تفریق خدمت کی،یہ 1890 کی بات ھے جب سادو ھیرانند نے اپنے بھائی نول راء سے منگھو پیر کے گرم چشموں کے قریب زمین خریدی۔اس سے پہلے 1888میں دونوں بھائیوں نے سولجر بازار میں"یونین اکیڈمی قائم کی،بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے "ھیرانند اکیڈمی"رکھا،ان کا تعلق برھمو سماج سے تھا،دونوں بھائیوں نے سماجی کاموں کے علاوہ ادب میں بھی نام پیدا کیا ،ھیرانند اکیڈمی بھی ایک ادبی اور ثقافتی اکیڈمی تھی۔یہ حیدرآباد مکھی شوقیرام آڈوانی کے بیٹے تھے۔نول راء کلرک سے ترقی کرتے ڈپٹی کلکٹر بنے،سماجی کاموں کے لئے "سندھ سبھا"نام تنظیم بنائی۔منگھو پیر کی زمین انہوں نے"سادو ھیرانند ٹرسٹ "بنا کر ٹرسٹ کے حوالے کے۔جذامی مریضوں کے لئے کوئی اسپتال نہ تھا تو انہوں نے جذامی اسپتال بنانے کا بیڑا اٹھایا اور کام شروع کیا،اسی دوران 1893 میں دونوں بھائی دیانت کر گئے۔ 1896میں اسپتال مکمل ھوا،مرکزی عمارت کے سوا دور...