آج مورخہ 1 فروری 2018 کو میں نے دیھ بند مراد کا وزٹ کیا،اس تصویر کے پیچھے آپ کو ویرانی میں ایک بوت بنگلہ نظر آرھا ہے،یہ ضلع لوکل بورڈ کراچی کا ریسٹ ھائوس ہے،یہ ریسٹ ھائوس سن 1930 کو مکمل ھوا تھا،جب سائیں جی۰ایم سید ضلع لوکل بورڈ کا صدر منتخب ہوئے ، تو اس دور میں جی۰ایم سید نے یہ ریسٹ ھاؤس بنوایا تھا،یاد رھے کہ جی۰ایم سید۔ 1928 سے 1933 تک ضلع لوکل بورڈ کراچی صدر رھے ہیں،کیونکہ اس وقت محال مانجھند،محال کوھستان اور کوٹڑی کراچی لوکل بورڈ میں شامل تھے۔سائین جی۰ایم سید کا گاؤں سن کراچی میں شامل تھا۔جب ریسٹ بنا تھا تو یہ پورا علائقہ سر سبز اور شاداب تھا،حب ندی اس کےپہلو سے گذر کر بہتی تھی،تصور کریں کیا عاشقانا منظر ھوگا،موجودہ اس ویران علاقے کا،فطرت کے پوجاریوں کے یہ اس جنت کا ٹکرا تھا۔یہ اس وقت کی بات ھے،جب حب ڈیم اور دریجی میں ڈیم بنے نہ تھے تو حب پورا سال بہتا تھا جس کے وجہ سے منگھو پیر سے گابو پٹ ،چھتارا اور میندیاری تک علائقہ آباد تھا اب سمندر میں میٹھا پانی نہیں گرتا تو سمندر کا پانی زیر زمین بڑھنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کارا ھوا تو علائقے ویران ھو گئے۔یہ قدرت کا نظام ھے،جب ھم فطرت سے کھلواڑ کرتے ھیں تو ویرانیاں ھمارے نصیب میں لکھی جاتی ھیں۔
۔1979 میں ماڈل ڈکٹیر ضیا نے پرانا بلدیاتی نظام ختم کیا تو ضلع لوکل بورڈ کراچی کو نیا نام ضلع کونسل کراچی دیا گیا۔تو یہ ریسٹ ھاؤس بھی ان کے انڈر چلی گئی،1998 تک یہ صحیح حالت میں تھی۔پھر سب نے اس خوبصورت ریسٹ ھاؤس سے منھ موڑ لیا،حب سوکھ گیا تو ویرانی نے یہاں ڈھیرے ڈالے۔اب اس کی کھڑکیاں اور دروازے بھی لوگ اکھاڑ کر لے گئے ،ضلع کونسل کا چوکیدار حیدر بخش نامی یہاں تعینات تھا،دو سال پہلے اس انتقال ھوگیا،یہ بھوت بنگلہ اب بنا چوکیدار کے ھے،اگر اس کی وارثی نہیں کی گئی تو ریتی اور مٹی نکالنے والی مافیا اس کا کریا کرم کر دے گی۔ضلع کونسل کےموجودہ قیادت اور افسران کو شاید ہی پتا ہو،یہ ان کی ملکیت ہے،یاد رھے کہ ۲۰۰۱ میں جب نیا بلدیاتی نظام نافذ ھوا تو یہ سٹی حکومت کے انڈر میں رھی جب دوبارہ ۱۹۷۹ کو نافذ کیا گیا تو ضلع کونسل کے حسن اسکوائر والے مین آفیس کے ساتھ ضلع کونسل کیے تمام پراپرٹی بشمول اس ریسٹ ھاؤس کے دوبارہ ضلع کونسل کو واپس ھو گئے ،یہ ریسٹ ھائوس دیھ بند مراد خان،تپو منگھو پیر کراچی ویسٹ میں واقع ھے۔یہ پوسٹ پڑھ ضلع کونسل کے نمائندوں اور افسران کو اس خیال آجائے اور ماضی کی طرع پھر آباد ھو جائے ۔میں نےاس کو ھریٹیج قرار دینے کی کلچر ڈیپارٹمنٹ کو سفارش بھی کی ھے،تاکہ اس کو قومی ورثہ قرار دیکر محفوظ کیا جائے:گل حسن کلمتی۔
Comments
Post a Comment